Wednesday, January 4, 2017

سرجان برکاتی کی نظربندی رد،10 لاکھ ہرجانہ کا مطالبہ

’پیلٹ بلٹ نا بھئی نا ‘ نعرے کے موجدسرجان برکاتی4ماہ سے قید 
کولگام اور شوپیان اضلاع میں بغیر توثیق بیک وقت سیفٹی ایکٹ نافذ کئے گئے
سرکار سے جواب طلب ،قانون حبس کے اطلاق پر امتناع ،رہائی کا حکم 

اظہر رفیقی // سرینگر// منفرد انداز بیان اور نئے نعروں اور ترانوں کے موجد سرجان برکاتی پر دو اضلاع میں الگ الگ سیفٹی ایکٹ کا نفاذ قانونی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔اس معاملے میں عدالت عالیہ نے بھی حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی فرد پر دو اضلاع میں کس طرح سیفٹی ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا جارہا ہے اور حکومت کی طرف سے منظوری کے بغیر اس قانون کا اطلاق کیوں کر کیا گیا ۔سرجان برکاتی پر کولگام ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے سیفٹی ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اور وہ اس وقت کوٹ بلوال جیل میں اسی سیفٹی ایکٹ کے تحت قید ہیں تاہم اس دوران انکشاف ہوا ہے کہ انتظامیہ نے مذکورہ لیڈر پر عائد سیفٹی ایکٹ کی توثیق ہی نہیں کی تھی جبکہ اس دوران شوپیان ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے بھی ان پر اسی قانون کا اطلاق عمل میں لایا ہے اور اس پر اگرچہ حکومت کی مہر تصدیق ثبت ہے،تاہم اسے رو بہ عمل نہیں لایا گیا۔عدالت عالیہ نے شوپیان ضلع مجسٹریہٹ کی طرف سے سرجان برکاتی پر عائد کئے گئے سیفٹی ایکٹ کے اطلاق پر امتناع جاری کیا ہے جبکہ کولگام ضلع مجسٹریٹ کے سیفٹی ایکٹ آرڈر کے حوالے سے سرکار سے جواب طلب کیا ہے ۔سرجان برکاتی کے کیس کی پیروی کررہے معروف وکیل ایڈوکیٹ شفقت حسین نے ایک ہی فرد پر دو اضلاع میں سیفٹی ایکٹ کے اطلاق اور اسکے بعد حکومت کی طرف سے عدم توثیق کے باوجود ان کے مئوکل کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور سرکار کے اس طرز عمل کو چیلینج کرتے ہوئے مئوکل کے حق میں10لاکھ روپے ہرجانے کا تقاضا کیا ہے ۔ایڈوکیٹ شفقت کا کہنا ہے کہ سیفٹی ایکٹ کا غلط استعمال کرکے انکے مئوکل کو بلا وجہ غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھا گیا ہے ۔ایجی ٹیشن 2016میں جنوبی کشمیر میں عوامی ریلیوں کے روح رواں قرار دئے گئے سرجان برکاتی کو چار ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سیفٹی ایکٹ کے تحت کوٹ بلوال جموں منتقل کیا گیا جہاں وہ آج تک قید ہیں ۔سرجان برکاتی نے عوامی ریلیوں کے دوران حکومت مخالف نعروں کی ایجاد میں نام کمایا تھا اور اس دوران وہ بڑی بڑی عوامی ریلیاں منعقد کرانے میں اہم رول ادا کرنے کیلئے مشہور ہوئے ۔انہوں نے کئی نئے ترانے بھی متعارف کرائے اور اپنے مخصوص و منفرد انداز بیان سے لوگوں خاص کر نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب رہے ۔یہ پیلٹ ویلٹ نا بھئی نا،یہ سیفٹی ویفٹی نا بھئی نا ،انہی کے متعارف کرائے گئے نعرے ہیں ،جو کشمیر اور بیرون وادی سوشل میڈیا پر بہت مشتہر ہوئے ۔عدالت عالیہ نے جیل حکام سے اس بات کی وجہ طلب کی ہے کہ سرجان برکاتی کو کس قانون کے تحت 4ماہ تک کوٹ بلوال جیل میں مقید رکھا گیا ہے ۔

Post a Comment