Monday, January 30, 2017

بیٹاکھٹوعہ جیل میں،ملاقات کےلئے وسائل نہیں (KashmirUzma.net) 1ST JUMāD� AL-ūL� 1438AH SRINAGAR MONDAY, JANUARY 30, 2017 : 3:39:54 PM


یٹاکھٹوعہ جیل میں،ملاقات کےلئے وسائل نہیں؛ 
بزرگ والدین کی کمر بھی ٹوٹ گئی اور کنبہ بھی بکھر گیا

سرینگر// دیار غیر میں4ماہ سے اسیر نوجوان سے ملاقات کی حسرت نے بزرگ والد کو شالبافی کیلئے مجبور کیا ہے تاکہ اپنے لخت جگر سے ملاقات کیلئے سفری خرچہ جوڑسکے۔عمر رسیدہ والدین اور9ماہ کے شیر خوار بچے کا واحد سہارا جاوید احمد خان4ماہ سے جموں کے کھٹوعہ جیل میں بدنام زمانہ قانون پی ایس اے کے تحت اسیری کے ایام کاٹ رہا ہے جبکہ اسکے والدین نان شبینہ کیلئے محتاج ہوگئے ہیںاور معاشی تنگی کی وجہ سے پورا کنبہ بکھر گیا ہے۔ عید الضحیٰ کے دن وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے بدرگنڈ علاقے میں نماز ادا کرنے کے بعد جاوید احمد خان ولد عبدالحمید کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب علاقے کی ناکہ بندی ہونے کے باوجود وہ نماز عید ادا کرنے کے بعد گھر کی طرف واپس جا رہا تھا۔ جاوید احمد خان پر پی ایس اے عائد کیا گیا اور کھٹوعہ جیل منتقل کیا گیا جہاں وہ گزشتہ4ماہ سے قید ہے۔رشتہ داروں کے مطابق جاوید احمد خان کی گرفتاری کے بعد اہل خانہ بکھر گیا کیونکہ گھر کے کفیل کی اسیری سے پورا کنبہ دانے دانے کیلئے محتاج ہوا۔ جاوید کے والدین کے اگر چہ 2بیٹے اور بھی ہے تاہم بزرگ اور کئی بیماریوں میں مبتلا والدین جاوید خان کے ساتھ پیری کے ایام گزر بسر رکررہے تھے۔ جاوید کے والد عبد الحمید کی آنکھوں کی بصارت اگرچہ ایام گردش کی وجہ سے کم ہوئی ہے تاہم کنبے کو ایک ساتھ رکھنے کی چاہ اور دیار غیر میں نظر بند اپنے بیٹے سے ملاقات کی حسرت نے اس کو ایک مرتبہ پھر شالبافی کیلئے مجبور کیا ہے تاکہ وہ اپنے بیٹے سے جموں کے کھٹوعہ جیل میں ملاقات کرسکے۔رشتہ داروں نے کہا کہ انکے گھر کی معاشی حالت اس قدر تنگ ہوچکی ہے کہ جاوید کی اہلیہ اپنے9ماہ کے شیر خور بچے کو لیکر میکے چلی گئی ہے تاکہ اس کے بزرگ اور عمر رسیدہ والد نسبتی کی بوڑھی ہڈیوں سے بوجھ کم کیا جاسکے۔ بزرگ والدین کیلئے ایک طرف بیٹے کی نظر بندی کا غم ہے تو دوسری طور اس کی اہلیہ اور شیرخوار بچے کو میکے بھیجنے کا غم اندر ہی اندر کھا رہا ہے۔ جاوید احمد خان پیشہ سے درزی تھا اور مکان کے باہر ہی اس کی دکان تھی ۔ وہ اپنے پورے کنبے کی کفالت کرتا تھا،تاہم دکان بھی بند ہے اور کنبہ بھی بکھر گیا۔ گھر والوں کی معاشی تنگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ4ماہ سے جاوید احمد خان کے گھر سے جیل میں اس سے ملنے کوئی نہیں گیا اور نہ ہی انہیں قانونی امداد میسر ہیں۔ اپنے میکے میں شوہر کے انتظار میں جاوید احمد خان کی اہلیہ بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں اور اس دن کا انتظار کر رہی ہے جب وہ واپس اپنے سسرال جا سکے۔انہوں نے کہا یہ مزاحمتی،مذہبی،فلاحی اور قانونی انجمنوں کیلئے لمحہ فکر یہ ہے کیونکہ کسی بھی جماعت نے ابھی تک اس کنبے کی کوئی بھی خبر نہیں لی۔اہل خانہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ جاوید احمد خان کے پبلک سیفٹی ایکٹ پر نظر ثانی کرے اور پہلے مرحلے میں انہیں جموں سے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کیا جائے تاکہ گھر والے ان کے ساتھ ملاقات کر سکےں۔ عبدالحمید خان بھی شال کو آخری شکل دے رہا ہے تاکہ وہ اسے کاروباریوں کے حوالے کر کے اپنے بیٹے سے جموں میں ملاقات کرسکے۔معمر والد ایک بار پھر اپنے بکھرے کنبے کو یکجا کرنے کا خواب بھی دیکھ رہا ہے اور اپنے شیر خوار پوتے کی کلکاریوں کو سننے کےلئے بیقرار ہے۔سرکار نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وادی میں8جولائی سے522 افراد پر سیفٹی ایکٹ نافذ کیا گیا ہے جس میں سے ابھی بھی اس قانون کے تحت265افراد نظر بند ہیں۔
بیٹاکھٹوعہ جیل میں،ملاقات کےلئے وسائل نہیں (KashmirUzma.net) 1ST JUMāD� AL-ūL� 1438AH SRINAGAR MONDAY, JANUARY 30, 2017 : 3:39:54 PM

No comments: